اگر آپ نے کبھی دنیا کی سب سے عجیب اور پراسرار کتاب کے بارے میں سنا ہے تو وہ ہے کوڈیکس گیگاس ۔ لاطینی زبان میں اس نام کا مطلب ہے "دیو قامت کتاب"۔ یہ کتاب نہ صرف اپنے بے پناہ سائز کے لیے مشہور ہے بلکہ اس کے ساتھ جڑی ایک خوفناک لیجنڈ کی وجہ سے بھی اسے "شیطان کی بائبل" (Devil's Bible) کہا جاتا ہے۔
اگر آپ کبھی اسٹاک ہوم جائیں تو رائل لائبریری میں جا کر اس دیو قامت شیطان کو اپنی آنکھوں سے ضرور دیکھیں۔ (Did you know?) اس کتاب کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس نے بھی اسے پڑھنے کی کوشش کی، اس پر لعنت ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق، جس گھر میں یہ کتاب رکھی جاتی تھی، وہاں پر چوہے، کیڑے یا آگ سے نقصان ہوتا تھا، یہی وجہ ہے کہ اسے لوہے کی زنجیروں سے جکڑ کر رکھا جاتا تھا۔ codex gigas book in urdu
اس سزا سے بچنے کے لیے راہب نے ایک ناممکن وعدہ کیا۔ اس نے کہا کہ وہ ایک رات میں (یعنی سورج غروب ہونے سے لے کر طلوع ہونے تک) پوری بائبل اور تمام انسانی علم کی ایک کتاب لکھ کر تیار کر دے گا۔ راہب کو معلوم تھا کہ یہ انسانی طاقت سے باہر ہے۔ اگر آپ نے کبھی دنیا کی سب سے
جدید ماہرین نے روشنائی کا تجزیہ کیا تو پتہ چلا کہ پوری کتاب ایک ہی شخص نے لکھی ہے اور اس کے انداز تحریر میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو اتنی بڑی کتاب لکھنے کے لیے اگر دن رات محنت کرے تو کم از کم 20 سے 30 سال لگ جائیں گے، نہ کہ ایک رات۔ codex gigas book in urdu
آدھی رات کو، جب راہب تھک کر چور ہو گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ وہ مر جائے گا، تو اس نے شیطان کو پکارا۔ راہب نے شیطان (Lucifer) سے اپنی جان کے بدلے کتاب مکمل کرنے کی درخواست کی۔ کتاب کی مشہور تصویر میں شیطان راہب کی مدد کر رہا ہے۔ راہب نے شیطان کے لیے ایک صفحہ بھی خالی چھوڑ دیا، جہاں اس نے شکرانے کے طور پر "فاتح شیطان" کی تصویر بنائی۔
قرون وسطیٰ میں چیک ریپبلک کے شہر پراگ کے قریب ایک بڑے مذہبی مرکز (قصبہ Podlažice) میں ایک راہب رہتا تھا۔ اس راہب نے اپنے راہبانہ قوانین توڑے اور اس کی سزا یہ تھی کہ اسے زندہ دیوار میں چن دیا جائے گا۔